بر یکنگ نیوز:

ماہرینِ فلکیات نےایک نیا تاریک ترین سیارہ دریافت کرلیاہے

ماہرینِ فلکیات نےایک نیا سیارہ دریافت کیا ہے جو مشتری کی طرح  خود پر پڑنے والی روشنی کی 99 فیصد مقدار جذب کرلیتا ہے۔

اس نیے سیارے کا شمار  خلا میں موجود تاریک ترین اجرام فلکی میں کیا جاسکتا ہے۔ اسے تاریک ترین سیارہ کہا جائے تو  یہ غلط نہ ہوگا کیونکہ  کہ اب تک اتنا تاریک   سیارہ دریافت نہیں ہوا۔

ماہرین فلکیات نے اس نئے دریافت شدہ سیارے کو  واسپ 104بی کانام دیا ہے۔یہ سیارہ طبیعی خصوصیات میں ہمارے نظام شمسی کے سب سے جسیم اور گیسی سیارے مشتری سے  بہت مماثلت رکھتا ہے،۔اس لیے اسے ’گرم مشتری‘ ہی  کے زمرے میں شامل کیا گیا ۔

علم ِ فلکیات میں ’’گرم مشتری‘‘ ان سیاروں کو کہا جاتا ہے جو اپنی کمیت اور دوسری طبیعی خصوصیات کے اعتبار سے ہمارے نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری سے مشابہت رکھتے ہیں ، لیکن ان کا مدار بہت مختصر ہوتا ہے یعنی وہ اپنے مرکزی ستارے (سورج) سے بہت قریب ہوتے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے بلکہ یہ بڑی تیزی سے اپنے سورج کے گرد چکر بھی لگا رہے ہوتے ہیں۔

ایسے ’’گرم مشتری‘‘ عموماً اپنے سورج کے گرد تقریباً دس دنوں میں ایک چکر پورا کرلیتے ہیں یعنی ایسے سیاروں کا ’’ایک سال‘‘ زمین پر گزرنے والے دس دنوں

کے مساوی ہوتا ہے۔  اپنے مدار میں ایک چکر صرف 1.75 دن میں پورا کرلیتا ہے۔

نیا گرم مشتری کیل (Keele) یونیورسٹی، برطانیہ سے وابستہ محققین کی دریافت ہے۔ انہوں نے زمین کے گرد مدار میں محو گردش، ناسا کی کیپلر خلائی دوربین سے حاصل شدہ ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد اس منفرد سیارے کی دریافت کا اعلان کیا۔

سیارہ اپنے سورج سے اس قدر قریب ہے کہ اس کے گرد بادلوں کا غلاف بھی موجود نہیں، جو بیشتر سیاروں کے گرد دکھائی دیتا ہے۔ سورج اور ستارے کا درمیانی فاصلہ انتہائی کم ہونے کے باعث شمسی ہوائیں، گیسی بادلوں کو سیارے سے دُور پھینک دیتی ہیں۔

اس کے نتیجے میں یہ سیارہ سیاہ دھند میں لپٹا دکھائی دے گا کیوں کہ اس کے اجزائے ترکیبی میں پوٹاشیم اور سوڈیم کی کثرت ہے جن کے ایٹم ٹکرانے والی تقریباً تمام روشنی جذب کرلیتے ہیں۔

سائنس دانوں کے مطابق نودریافتہ سیارہ ’’اسد‘‘ (لیو) نامی جھرمٹ میں واقع ہے جو زمین سے 466 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ سیارہ پونے دو دن میں اپنے سورج کے گرد ایک چکر مکمل کرتا ہے۔

اسے اپنی ایک محوری گردش مکمل کرنے میں بھی اتنا ہی وقت لگتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس منفرد سیارے کا نصف کرہ ہمیشہ سورج کی جانب رہتا ہے اور بقیہ نصف ہمیشہ اس سے مخالف سمت میں ہوتا ہے۔ بہ الفاظ اس کے آدھے حصے پر ہمیشہ دن اور آدھے پر ہمیشہ رات ہوتی ہے۔

Check Also

فیس بک کا صارفین کی آسانی کے لیے میسینجر میں ’’ان سینڈ فیچر ‘‘ متعارف کرانے کا اعلان

سماجی روابط کی ویب سائٹ واٹس ایپ نے اپنے صارفین کو یہ سہولت فراہم کی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Anmol TV